تحریر:محمد اقبال، سائینٹیفک آفیسر، مینگو ریسرچ سٹیشن شجاع آباد، ملتان
آم کے بڑے اور قد آور پودوں کی نہ صرف منیجمنٹ مشکل کام ہے بلکہ ایسے پودے وارہ بندی کا رجحان رکھتے ہیں۔ مزید ایسے پودے اچھی کوالٹی کا پھل بھی پیدا نہیں کرتے۔ ان تمام مسائل کا حل آم کے پودوں کے سائز کو چھوٹا کرنا ہے۔ لہذا پودوں کے سائز کو کنٹرول کرنے کی خواہش آم کے باغبانوں کے لئے موجودہ دور میں ایک اہم ضرورت بن گئی ہے۔ لیکن ہمارے آم کے کاشتی علاقوں کو مدنظر رکھ کر یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آم کے پودوں کا آئیڈیل سائز کتنا ہونا چاہیے؟
آم کے پودوں کے آئیڈیل سائز سے مراد کم از کم وہ سائز ہے جس میں پودے باقاعدگی سے اچھی کوالٹی کا پھل دیں، باغ میں اس سائز کے پودوں کی منیجمنٹ مثلاً کھاد دینا، سپرے کرنا، کانٹ چھانٹ کرنا اور پھل کو توڑنے وغیرہ جیسے امور اچھے سے اور آسانی سے سر انجام دئیے جاسکیں۔ مزید یہ کہ اس سائز کے پودے اس علاقے کے شدید موسمی حالات خصوصاََ سردی اور گرمی کو برداشت کر سکیں۔ کسی بھی علاقہ کی آب و ہوا خاص طور پر درجہ حرارت اور پودوں کی پھل اٹھانے کی عادت وہ دو بنیادی عوامل ہیں جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ آم کے پودوں کا سائز کتنا ہونا چاہیے۔ (آم کی مختلف اقسام میں پھل اٹھانے کی عادت کے متعلق پوسٹ پہلے بھی شئیر کی گئی تھی، لنک یہ ہے)
https://www.facebook.com/102466178814784/posts/126108163117252/
پنجاب میں آم کے کاشتہ علاقوں کا درجہ حرارت گرمیوں میں 49 ڈگری سینٹی گریڈ اور سردیوں میں 1 سے صفر ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ دو انتہاؤں کا شدید موسم آم کے چھوٹے پودوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس سے بعض اوقات جزوی طور پر پودوں کو نقصان پہنچتا ہے اور کبھی کبھی تو پودے مر بھی جاتے ہیں۔
ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب میں آم کے پودوں کا آئیڈیل سائز جس میں پودوں کی اونچائی 2 ± 20(یعنی 18 سے 22) فٹ اور چوڑائی (پھیلاؤ) 1±18 (یعنی 17 سے 19) فٹ ایک بہترین آئیڈیل سائز ہے۔
اس سائز کے پودوں کے حصول کے لیے پودوں کی کاشتی جیومیٹری میں لائن سے لائن (مشرق سے مغرب) کا فاصلہ 27 فٹ اور پودے سے پودے (یعنی شمال سے جنوب) 22 فٹ رکھا جاتا ہے۔

Leave a Reply