امرود کے ہائی ڈینسٹی باغا ت کی شاخ تراشی

0
404

تحریر ڈاکٹر مجاہد علی ، ڈاکٹر حبیب اللہ حبیب، انجئینر محمد محسن

شعبہ اصلاح آبپاشی (رینالہ خورد اوکاڑہ )

دور حاضر میں دیگر پھلو ں کی طرح امرود کے باغات بھی ہائی ڈینسٹی باغات کی ضرورت میں تیزی آ رہی ہے کیونکہ آباد ی بڑھنے سے فی کسان رقبہ میں کمی اور زراعی زمینوں پر رہائشی آباد کاری نے ہائی ڈینسٹی باغات کو ملکی ضرورت کے لیے نا گزیر بنا دیا ہے راویتی طور پر امرود کے باغات میں فی ایکڑ 100سے 200پودے لگائے جاتے ہیں لیکن جدید طریقہ کاشت میں 500لیکر 2000پودے لگائے جا سکتے ہیں لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف مسائل کا سامنا کیا جا رہا ہے جو درج ذیل ہیں ۔
ہائی ڈینسٹی سے مراد یہ ہے کہ باغات میں پودے سے پودے کا فاصلہ کم رکھا جاتا ہے اس طرح سے پھل کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے اس کے علاوہ پودے کی جڑوں میں پانی اور خوراک کا مقابلہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے پھل کی پیداروار اور کوالٹی متاثر ہوتی ہے اس مسئلہ کے حل کے لیے محکمہ اصلاح آبپاشی ڈرپ اریگیشن کے فروغ کے لیے گامزن ہے اس طرح فی پودا قطرہ قطرہ آبپاشی کی وجہ سے پودوں کی جڑوں کا پھیلاؤ کم ہو جاتا ہے اس لیے پانی اور خوراک پودے کی جڑوں کے بالکل قریب مہیا کی جاتی ہے ۔
مزید براں پودوں کی تعداد بڑھانے سے ہوا اور سورج کی روشنی کا گزر پودوں میں کم سے کم ہو جاتا ہے لہذا پودوں کی شاخ تراشی سے اس مسلہ سے نمٹا جا سکتا ہے ، مناسب طریقہ اور مناسب موسم میں شاخ تراشی پودوں کی بہتر پیداوار کے لیے انتہائی ضروری ہے ورنہ پودوں میں فاصلہ کم کرنے سے نہ صرف پیداوار کم ہو جاتی بلکہ پھل کا سائز بھی کم ہو جاتا ہے اور بیماریوں کا حملہ بڑھا جاتا ہے ۔
محکمہ اصلاح آبپاشی پنچاب کے ضلع اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد میں تحقیقی ادارہ میں امرود کا تقریباً 2.2ایکڑ کا باغ موجود ہے جس میں امرود کی تین اقسام بڑی صراحی اور چھوٹی صراح اور گولڈن کے پودوں کو مختلف فاصلوں پر لگایا گیا ہے جس میں رویاتی کاشت (7m x 7m)اور (5m x 5m)کے علاوہ ہائی ڈینسٹی (جدید طریقہ کار )
(3m x 3m, 1.5mx3M, 1x2m)کے مطابق پودوں اور قتاروں کا فاصلہ رکھا گیا ہے اس باغ پر کیے گئے شاخ تراشی کے تجربات اور مشاہدات سے چند نتائج سامنے آئے ہیں جو درج ذیل ہیں
شاخ تراشی میں وقت بہت اہمیت کا حامل ہے سردیوں کے پھل حاصل کرنے کے فوراً بعد فروری کے آخر تک شاخ تراشی کا عمل مکمل کر لینا چاہیے کیونکہ مشاہدہ سے اس بات کا پتہ چلا ہے کے مارچ یا اپریل میں کی گئی شاخ تراشی سے پودوں پر سردیوں کا پھل دیر سے لگتا ہے کیونکہ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ پھل کی پیداوار میں کمی اور غذائیت متاثر ہوتی ہے فروری تک شاخ تراشی کے عمل مکمل کرنے سے پودے کی نئی شاخوں کی عمر سردیوں کے شروع تک مکمل ہو جاتی ہے جس سے وہ پھل لگنے کا عمل بر وقت مکمل کر لیتے ہیں۔
عام طور پر امردو کے پودے کو درمیانے درجہ کی شاخ تراشی بہتر رہتی ہے لیکن جیسے جیسے پودے سے پودے اور قطار سے قطار کا فاصلہ کم کیا جاتا ہے شاخ تراشی کی مقدار کو بڑھنا پڑتا ہے تاکہ شاخوں اور پتوں کے جھنڈ (Canopy)میں سے ہوا اور روشنی کا گزر زیادہ سے زیادہ ہو ۔
ہائی ڈینسٹی باغات میں امرود کے گرمی کے پھل کو گرا دینا چاہے کیونکہ پھل کی مکھی کا حملہ بہت شدید ہوتا ہے اور اس کو کنڑول کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے دیگر زرعی ادویات سپرے کرنے سے بھی پھل کی مکھی کو کنڑول کرنا مشکل ہو جاتا ہے جس سے پھل کی مکھی پھل کے اندر انڈے دے دیتی ہے اور پھل مکمل طور پر خراب ہو جاتا ہے اوراکثر اوقات پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے ۔اس کے علاوہ سردیوں کا پھل بھی کم لگتا ہے لہذا گرمیوں کے آغاز میں پھول آتے وقت پھولوں کے بور کوگرا دینا چاہیے جس سے سردیوں کا پھل زیادہ مقدار میں لگتا ہے اور سردیوں میں پھل کی مکھی کا حملہ بھی نہیں ہوتا ۔
شاخ تراشی کے لیے ہمیشہ تیز دھار آلات (آری وغیرہ) کا استعمال کرنا چاہے کند آلات اور ہاتھوں سے شاخوں کو توڑنے سے گریز کریں جس کی وجہ سے پودوں کی صحت متاثر ہوتی ہے شاخ تراشی کے بعد اگر ہوا میں نمی ہو توپھپھو ندی کش ادویات کا سپرے ضرور کریں ہائی ڈینسٹی کے باغات میں پودے سے پودے کا فاصلہ کم کرنے سے اگرچہ فی پودا پیداوار میں کمی آتی ہے کیونکہ پودوں میں شاخوں کا تناسب کم اور پھل کا سائز کم ہو جاتا ہے لیکن پودوں کی تعداد فی یونٹ ایریا بڑھنے سے فی ایکڑ مجموعی پیداوار میں اضافہ ہو جاتا ہے

Leave a Reply